فهرس الكتاب

الصفحة 1722 من 4341

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

باب: عیدین کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت

1722 حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ وَيَوْمُ الْأَضْحَى تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ

ابو عبید ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ عید میں حاضر تھا۔ امیر المومنین نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی اور ( نماز کے بعد خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ان دو دنوں کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے، یعنی عید الفطر کے دن اور عید الاضحیٰ کے دن۔ عید الفطر کا دن تو تمہارا روزوں سے فارغ ہونے کا دن ہے اور عید الاضحیٰ کے دن تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔

1۔نماز عید کا خطبہ نماز کے بعد ہو تا ہے 2 عید کے خطبے میں عید کے متعلق مسا ئل بیا ن کر نے چا ہییں 3 عید ین کے دن روزہ رکھنا منع ہے کیو نکہ اس دن روزہ رکھنا ھو یا مسلما نو ں کی اجتماعی خو شی سے لاتعلق ہو نے کا اظہا ر ہے جو ایک مسلما ن کا کا م نہیں 4 عید الفطر کے دن روزہ رکھنے سے عملی طو ر پر روزوں سے فا رغ نہپ ہو نے کا اظہار ہو تا ہے اس طر ح گو یا کہ اللہ کے مقرر کر دہ فرض میں خود سا ختہ اضا فہ کر دیا جا تا ہے جو بہت برا فعل ہے 5۔ جس طرح قر با نی کر نا اللہ کے حکم کی تعمیل ہے اس طر ح قر با نی کے گو شت میں سے کچھ نہ کچھ کھا پی لینا بھی اللہ کی نعمت کا شکر ہے اس دن روزہ رکھنا اس شکر سے پہلو تہی اور اللہ کی نعمت کی نا شکر ی ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت