فهرس الكتاب

الصفحة 1737 من 4341

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

باب: عاشورے کا روزہ

1737 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَرِهَهُ فَلْيَدَعْهُ

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے پاس عاشورا کے دن کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: ''زمانہ جاہلیت کے لوگ اس دن روزہ رکھا کرتے تھے، چنانچہ اب جو شخص اس کا روزہ رکھنا چاہتا ہے رکھ لے اور جو شخص روزہ نہیں رکھنا چاہتا ، چھوڑ دے۔''

1۔اس سے معلو م ہو ا کہ یہ روزہ فر ض نہیں البتہ ثواب کا کا م ضرور ہے 2 جا ہلیت کے جس کا م کی تا ئید قر آن حدیث سے ہو جا ئے وہ ہماری شر یعت کا حکم بن جا تا ہے پھر اسے جا ہلیت کا کا م سمجھ کر نہیں بلکہ اسلا م کا حکم سمجھ کر ادا کیا جا تا ہے اور جس کا م سے منع کر دیا جائے وہ با لکل حرام ہو تا ہے جس کا م کے با رے میں حکم یا ممانعت کی دلیل نہ ملے اس سے اجتنا ب کر نا چا ہیے کیو نکہ نبی اکرم ﷺ نے بہت سے کا مو ں میں یہو د نصاری کی مخالفت کی ہے حتی کے صحا بہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سمجھ لیا کہ کفار کی مخالفت اسلا م کا ایک اصول ہے یہی وجہ ہے کہ جب نماز کے وقت کا اعلان کر نے کے لئے مشورا ہوا تو صحا بہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نا قو س بجا نے اور آ گ جلا نے کی تجویز کر دی یہ غیر مسلما نو ں کا طر یقہ ہے تفصیل کے لئے دیکھیے (سنن ابن ماجہ الاذان۔ باب بدء الاذان حدیث 707)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت