1751 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ دُعِيَ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ
جابر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جسے کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ دعوت قبول کر لے، پھر چاہے کھانا کھائے چاہے نہ کھائے۔ ''
1۔روزہ دار اپنا روزہ قا ئم رکھتے ہو ئے بھی دعوت میں شریک ہو سکتا ہے اس کا حا ضر ہو نا ہی دعوت دینے والے کے لئے خو شی کا با عث ہو گا اور اس چیز کا اظہار ہو گا کہ دعوت میں شر یک ہو نے کا سبب کو ئی نا را ضی نہیں 2 اگر روزہ دار کھا نے میں شر یک نہ ہو تو اسے چا ہیے کہ دعوت دینے والے کو دعا دے ارشاد نبوی ﷺہے (اذا دعي احدكم فليجب فان كان صائما فليصل وان كان مفطرا فليطعم) (صحیح مسلم النکاح باب الامر باجابۃ الداعی الی دعوۃ حدیث 1431) جب کسی کو دعوت دی جا ئے تو اسے چا ہیے قبول کر ے پھر اگر روزے ہو تو دعا کر ے یا نما ز پڑھے اور اگر روزے سے نہ ہو تو کھا نا کھا لے 3۔ فليصل (کا مطلب نما ز پڑھنا بھی کیا گیا ہے اس طرح روزے دار کو نماز کا ثوا ب مل جا ئے گا اور حا ضر ین کو نماز کی بر کت حا صل ہو جا ئے گی ۔