فهرس الكتاب

الصفحة 176 من 4341

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت

باب: خوارج کا بیان

176 حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، يَقُولُ: «شَرُّ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ، وَخَيْرُ قَتِيلٍ مَنْ قَتَلُوا، كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ، قَدْ كَانَ هَؤُلَاءِ مُسْلِمِينَ فَصَارُوا كُفَّارًا» قُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ، هَذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ؟ قَالَ: بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابو غالب ؓ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو امامہ ؓ نے فرمایا: یہ لوگ (خارجی) آسمان کے نیچے قتل ہونے والے بدترین افراد ہیں اور جنہیں یہ لوگ قتل کر دیں وہ بہترین مقتول (شہید) ہیں۔ یہ جہنمیوں کے کتے ہیں، یہ مسلمان تھے، پھر کافر ہوگئے۔ میں نے کہا: ابو امامہ! کیا یہ آپ کی( اپنی رائے ہے؟ انہوں نے کہا: بلکہ میں نے رسول اللہ ﷺسے یہ بات سنی ہے۔

(1) اس میں خارجیوں کی شدید مذمت ہے اور ان کے کافر اور دوزخی ہونے کی صراحت ہے۔ (2) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے عقائد کفریہ ہیں، جن کی وجہ سے انہیں اسلام سے نکل کر کفر اختیار کر لینے والے قرار دیا گیا ہے۔ (3) خارجیوں سے جنگ کرنے والے مسلمانوں کو بلند مقام اور فضیلت حاصل ہے۔ (4) اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے خارجیوں سے جنگ کی اور ایک خارجی کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت