فهرس الكتاب

الصفحة 1762 من 4341

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

باب: عورت کا خاوند کی اجازت کے بغیر روزہ کھنا

1762 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ أَنْ يَصُمْنَ إِلَّا بِإِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ

ابو سعید ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو اپنے خاوندوں کی اجازت کے بغیر روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

1۔ہمارے فا ضل محقق اس روایت کی با بت لکھتے ہیں کہ یہ سند ًاتو ضعیف ہے لیکن گزشتہ روایت اس کی شا ہد ہے جو کہ صحیح ہے علا وہ ازیں دیگر محققین نے شواہد کی بنا پر اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے تفصیل کے لئےدیکھئے۔ ( الموسوعۃ الحدیثیہ مسند الامام احمد۔18/283۔282۔وسنن ابن ماجہ للدکتور بشار عواد حدیث 1762) لہذا مذکو رہ روا یت میں بیا ن کر دہ مسئلہ دیگر شواہد کی بنا پر قا بل عمل اور قابل حجت ہے 2 فرض کی ادائیگی کے لئے کسی سے اجا زت لینے کی ضرورت نہیں 3 نفلی روزے رکھنے میں چو نکہ خا وند کا حق متا ثر ہو نے کا اندیشہ ہے خصوصا جب کے عورت کثرت سے نفلی روزے رکھے اس لئے نفلی روزئے میں عورت کو چا ہیے کہ خا وند سے اجا زت لے لے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت