فهرس الكتاب

الصفحة 178 من 4341

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت

باب: فرقہ جہمیہ نے جس چیز کا انکار کیا

178 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُضَامُونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَكَذَلِكَ لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے ، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:'' کیا تمہیں چودھویں رات کو چاند دیکھنے میں مشقت ہوتی ہے۔'' صحابہ نے کہا: جی نہیں۔ فرمایا:'' اسی طرح قیامت کے دن تمہیں اپنے رب کی زیارت میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔''

حدیث میں لفظ تضامون وارد ہے۔ اس کا مفہوم بھیڑ اور ازدحام کی وجہ سے مشقت اور تکلیف کا پیش آنا ہے۔ جب بہت سے لوگ ایک چیز کو دیکھنے کی کوشش کر رہے ہوں، تو جو لوگ اس کے قریب ہوتے ہیں، وہ آسانی سے دیکھ لیتے ہیں جب کہ پیچھے ہونے والے لوگ آسانی سے نہیں دیکھ سکتے۔ یہ صورت اس وقت پیش آتی ہے جب وہ چیز چھوٹی ہو اور انسانوں کے ہجوم میں چھپ جائے۔ چاند بڑا اور بلند ہونے کی وجہ سے بھیڑ میں چھپ نہیں سکتا، اس لیے دیکھنے والوں کی تعداد جتنی بھی ہو، آسانی سے دیکھ سکتے ہیں۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی زیارت میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی، جس طرح پورا چاند دیکھنے میں دشواری پیش نہیں آتی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت