فهرس الكتاب

الصفحة 1786 من 4341

کتاب: زکاۃ کے احکام و مسائل

باب: زکاۃ نہ دینے والے کی سزا

1786 حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَأْتِي الْإِبِلُ الَّتِي لَمْ تُعْطِ الْحَقَّ مِنْهَا تَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَخْفَافِهَا، وَتَأْتِي الْبَقَرُ وَالْغَنَمُ تَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَظْلَافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَيَأْتِي الْكَنْزُ شُجَاعًا أَقْرَعَ، فَيَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُهُ فَيَفِرُّ، فَيَقُولُ: مَا لِي وَلَكَ فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ، أَنَا كَنْزُكَ، فَيَتَقِيهِ بِيَدِهِ فَيَلْقَمُهَا

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ اونٹ جن کا حق (زکاۃ) ادا نہیں کیا گیا، (قیامت کے دن) آئیں گے، اپنے مالک کو پاؤں سے روندیں گے، گائیں اور بکریاں آئیں گی، (وہ بھی) اپنے مالک کو سموں سے روندیں گی اور سینگوں سے ماریں گی۔ اور خزانہ گنجا سانپ بن کر آ جائے گا۔ وہ قیامت کو جب اپنے مالک سے ملے گا تو مالک اس سے دو دفعہ بھاگے گا، پھر وہ (سانپ) سامنے سے آئے گا تو مالک (پھر) بھاگے گا (اور) کہے گا: تو کیوں میرے پیچھے پڑ گیا ہے؟ وہ کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیزا خزانہ ہوں۔ وہ اس سے بچنے کے لیے اس کی طرف ہاتھ کرے گا تو وہ اس (ہاتھ) کو اپنے منہ میں لے لے گا۔

(1) ۔خزانے سے مراد سونا چاندی وغیرہ ہے جس کی زکاۃ ادا نہیں کی گئی ۔ (2) انسان دنیا میں روپے پیسےکا لالچ کرتا ہے ۔ اس کو حاصل کرنے میں حلال و حرام کی پروا نہیں کرتا اور لالچ کی وجہ سے زکاۃ نہیں دیتا ۔ اس قسم کا مال قیامت کا عذاب کا باعث ہوگا کہ انسان اس سے جان چھڑانا چاہے گا لیکن وہ نہیں چھوڑے گا۔ (3) انسان ہاتھ سے مال لیتا ہے لیکن اسی ہاتھ سے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرنا چاہتا ، اس لیے ہاتھ کو عذاب ہوگا کہ اس کا خزانہ سانپ بن کر اس کا ہاتھ کاٹ کھائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے ۔آمین

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت