فهرس الكتاب

الصفحة 1817 من 4341

کتاب: زکاۃ کے احکام و مسائل

باب: غلے اور پھلوں کی زکاۃ

1817 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ، أَوْ كَانَ بَعْلًا، الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّوَانِي نِصْفُ الْعُشْرِ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فر رہے تھے: جسے بارش، ندیوں اور چشموں سے پانی ملے، یا جو زمین کی نمی سے سیراب ہو، اس میں دسواں حصہ ہے، اور جسے جانوروں پر پانی لا کر سینچا جائے، اس میں بیسواں حصہ ہے۔

1۔بعل نمی سے سراب ہونے والا ، یعنی جسے بارش اور آبپاشی کی ضرورت نہ ہو جیسے دریا کے قریب کی زمین میں اگنے والی فصل ہوتی ہے ۔ اسی طرح کھجور کے درختوں کی جڑیں بھی بہت گہرائی میں چلی جاتی ہیں تو بعض علاقوں میں ان کو آب پاشی کی ضرورت نہیں رہتی ۔ ایسی پیداوار میں دسواں حصہ زکاۃ ہے ۔

سوانی کا واحد سانیۃ ہے ، یعنی وہ اونٹنی جس پر لاد کر پانی لایا جائے ۔ آج کل بعض مقامات پر ٹینکروں یا پائپ لائنوں کے ذریعے سے پانی پہنچایا جاتا ہے جس پر کافی خرچ آتا ہے یہ بھی اسی حکم میں ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت