1828 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا نَزَلَتِ الزَّكَاةُ، لَمْ يَأْمُرْنَا، وَلَمْ يَنْهَنَا، وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ»
حضرت قیس بن سعد بن عبادہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: زکاۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ جب زکاۃ کے احکام نازل ہو گئے تو آپ ﷺ نے ہمیں صدقہ فطر کا (دوبارہ) حکم نہیں دیا اور منع بھی نہیں فرمایا، البتہ ہم لوگ اس کی ادائیگی کرتے ہیں۔
1۔اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ فطر کی ادائیکی واجب نہیں تاہم رسول اللہ ﷺ کے صدقہ فطر جمع کر کے فقراء میں تقسیم کرنے کے اہتمام سے اندازہ ہوتا ہے کہ زکاۃ کے احام نازل ہونے سے صدقہ فطر کا وجوب منسوخ نہیں ہوا ۔
رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر کی ادائیکی سے منع نہیں فرمایا ، اس سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ اس کی مشروعیت منسوخ نہیں ہوئی ورنہ رسول اللہ ﷺ واضح فرما دیتے کہ اب اس کی ادائیگی ضروری نہیں رہی ۔