فهرس الكتاب

الصفحة 1833 من 4341

کتاب: زکاۃ کے احکام و مسائل

باب: وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے

1833 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔

اہل لغت نے وسق کی یہی مقدار بیان کی ہے ۔ اور گزشتہ صحیح روایت میں بھی یہی مقدار بیان کی گئی ہے ۔ علامہ ابن اثیر  نے فرمایا: '' وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ۔'' صاع اور مد کی مقدار میں اہل حجاز اور اہل عراق میں اختلاف ہونے کی وجہ سے اہل حجاز کے ہاں وسق تین سو بیس رطل ( ایک سو ساٹھ سیر یا چار من ) کے برابر ہوتا ہے اور اہل عراق کے ہاں چار سو اسی رطل ( دو سو چالیس سیر یا چھ من) کے برابر ہوتا ہے ۔ ( النہایۃ: 5؍185 مادہ: وسق ) معتبر وزن حجازی ہے جس کی رو سے ایک وسق چار من کے قریب ہوتا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت