فهرس الكتاب

الصفحة 1861 من 4341

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

باب: کنواری لڑکی سے نکاح کرنا

1861 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالْأَبْكَارِ، فَإِنَّهُنَّ أَعْذَبُ أَفْوَاهًا، وَأَنْتَقُ أَرْحَامًا، وَأَرْضَى بِالْيَسِيرِ»

حضرت عتبہ بن عویم بن ساعدہ انصاری ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کنواریوں سے نکاح کرو کیونکہ وہ شیریں دہن، زیاہد بچے پیدا کرنے والی، اور تھوڑی چیز پر راضی رہنے والی ہوتی ہیں۔

1۔مذکورہ روایت کو ہمارے محقق  نے سندا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی  نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے ۔ تفصیل کے لیے دیکھیئے: ( الصحیحۃ ، رقم: 623) بنا بریں بیوہ اور مطلقہ سے بھی نکاح کر لینا چاہیے لیکن اگر بیوہ کا رشتہ بھی مل رہا ہو اور کنواری کا بھی تو کنواری کو ترجیح دینی چاہیے خصوصا جب کہ مرد نوجوان ہو ۔

شیریں دہن کا مطلب یہ ہے کہ ان میں حیا زیادہ ہوتی ہے اس لیے اپنے خاوند کو خوش رکھنے کی زیادہ کوشش کرتی ہیں اور تلخ لہجے میں بات کرنے سے پرہیز کرتی ہیں ۔ بعض علماء نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ان کا لعاب دہن زیادہ شیریں ہوتا ہے ۔

جو عورت پہلے ایک خاوند کے ساتھ زندگی گزار چکی ہے اور اس کے بچے ہو چکے ہیں اب نئے شوہر سے اس کے بچے کم ہونے کی توقع ہے جب کہ کنواری لڑکی سے نکاح کے بعد جتنے بچے ہوں گے وہ سب اس خاوند کے ہوں گے۔

قناعت ایک اچھا وصف ہے جس عورت میں یہ صفت پائی جائے وہ اچھی بیوی ثابت ہو گی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت