1863 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْكِحُوا، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ»
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نکاح کرو، میں تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔
1۔نکاح اسلام کے اہم احکام میں سے ہے اس لیے بلاوجہ کنوارا رہنا درست نہیں ۔
کثرت اولاد شرعا مطلوب ہے کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے خوشی کا باعث ہے ۔ اس مفہوم کی ایک حدیث حضرت معقل بن یسار سے بھی مروی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں: '' خوب محبت کرنے والی ، زیادہ بچے جننے والی سے نکاح کرو ، میں دوسری امتوں سے تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔'' ( سنن ابی داؤد ، النکاح ، باب النہی عن تزوج من لم یلد من النساء ، حدیث: 205) کسی عورت کی ماں اور بہنوں وغیرہ کے حالات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ اس عورت کی اولاد زیادہ ہو گی۔