فهرس الكتاب

الصفحة 1875 من 4341

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

باب: بیٹی کی ناراضی کے باوجود اس کا نکاح کر دینا

1875 حَدَّثَنَا أَبُو السَّقْرِ يَحْيَى بْنُ يَزْدَادَ الْعَسْكَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرُّوذِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّ «أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» .

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضڑ ہوئی اور بتایا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح کر دیا ہے جب کہ وہ (اس رشتے سے) ناخؤش ہے۔ نبی ﷺ نے اسے (نکاح قائم رکھنے یا نہ رکھنے کا) اختیار دے دیا۔

ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت عبداللہ بن عباس ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت