فهرس الكتاب

الصفحة 1908 من 4341

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

باب: ولیمہ کا بیان

1908 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ، فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً»

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی زوجہ محترمہ سے نکاح کے موقع پر ایسا (پر تکلف) ولیمہ کیا ہو جیسا حضرت زینب ؓا سے نکاح کے موقع پر کیا۔ آپ ﷺ نے (اس موقع پر) ایک بکری ذبح فرمائی۔

1۔ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں ۔ ان کی والدہ حضرت امیمہ بنت عبدالمطلب تھیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ سے کیا تھا لیکن نباہ نہ ہو سکا اور طلاق ہو گئی ۔ عدت گزرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خود ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے وحی کے ذریعے سے کردیا ۔

صحابی نے ولیمہ کے موقع پر ایک بکری ذبح کرنے کو پرتکلف اور شان دار ولیمہ قرار دیا ہے حالانکہ عرب گوشت کھانے کے عادی تھے ۔ وہ بیک وقت کئی کئی اونٹ ذبح کر کے کھاتے اور کھلاتے تھے ۔ اور اس ماحول میں ایک بکری بہت معمولی چیز تھی لیکن رسول اللہ ﷺ نے نکاح کو آسان بنانے کے لیے تکلفات سے پرہیز فرمایا اور عام طور پر ولیمہ گوشت کے بغیر ہی کردیا گیا ۔

ولیمے کے لیے قرض لینا اور خواہ مخواہ زیر بار ہونا درست نہیں ۔ آسانی سے جس قدر اہتمام ہو سکے کرلیا جائے ۔

نکاح کے موقع پر لڑکی والوں کے ہاں جمع ہو کر دعوتیں اڑانا کسی حدیث میں مذکور نہیں ۔ یہ محض ایک رسم ہے جس کا دین و شریعت سے کوئی تعلق نہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت