1944 حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَقَدْ نَزَلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ، وَرَضَاعَةُ الْكَبِيرِ عَشْرًا، وَلَقَدْ كَانَ فِي صَحِيفَةٍ تَحْتَ سَرِيرِي، فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَشَاغَلْنَا بِمَوْتِهِ، دَخَلَ دَاجِنٌ فَأَكَلَهَا»
حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رجم کی آیت اور بڑی عمر کے لڑکے کو دس بار دودھ پلانے کے مسئلہ پر مشتمل آیت نازل ہوئی تھی۔ یہ دونوں آیتیں ایک کاغذ پر لکھی ہوئی میرے بستر پر پڑی تھیں۔ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، ہم آپ ﷺ کے غصل و کفن وغیرہ میں مشغول ہو گئے۔ ایک بکری آئی اور وہ کاغذ کھا گئی۔
1۔یہ آیات ایسی ہیں جن کی تلاوت منسوخ ہو گئی اور حکم باقی ہے ، اس لیے صحابہ کرام نے انہیں مصحف میں نہیں لکھا ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ( الحجر:9) '' ہم نے اس نصیحت ( قرآن ) کو نازل کیا ، اور ہم ہی اس کو محفوظ رکھنے والے ہیں ۔'' اس لیے یہ ممکن نہیں کہ ایک آیت کی تلاوت منسوخ نہ ہوئی ہو اور وہ ضائع ہو جائے ۔ ویسے بھی قرآن مجید صرف کتابت کے ذریعے سے محفوظ نہیں بلکہ اس کی اصل حفاظت زبانی یاد کرنے سے ہے ۔ صحابہ کرام میں بے شمار افراد حافظ قرآن تھے ۔ اس کے بعد بھی ہر دور میں ہر علاقے میں حفاظ کرام موجود رہے ہیں اور رہیں گے ۔
دوسری احادیث سے ثابت ہے کہ آخری حکم پانچ بار دودھ پلانے سے حرمت کا رشتہ ثابت ہونے کا ارادہ ہے اور یہی راجح موقف ہے ۔