فهرس الكتاب

الصفحة 1946 من 4341

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

باب: دودھ چھڑانے کے بعد رضاعت نہیں ہوتی

1946 حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ»

حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رضاعت وہی (معتبر) ہے جو آنتوں کو پھاڑے۔

1۔'' آنتوں کو پھاڑنے '' کا مطلب دودھ سے بچے کا سیر ہونا ہے ۔

حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رضاعت وہی معتبر ہے جس عمر میں بچے کی غذا ماں کا دودھ ہوا کرتی ہے ۔ عام حالات میں بڑی عمر کے بچے کو دودھ پلانے سے رضاعت کا رشتہ قائم نہیں ہوگا ۔ مزید دیکھیئے حدیث: 1943 کے فوائد و مسائل۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت