فهرس الكتاب

الصفحة 1966 من 4341

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

باب: احرام کی حالت میں نکاح کرنا

1966 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نَبِيهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُحْرِمُ لَا يَنْكِحُ، وَلَا يُنْكِحُ، وَلَا يَخْطُبُ»

حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: احرام والا خود اپنا نکاح کر سکتا نہ کسی دوسرے کا نکاح کر سکتا ہے اور نہ نکاح کا پیغام ہی دے سکتا ہے۔

1۔احرام کی حالت میں نکاح کرنا جائز نہیں۔

احرام والا آدمی خود شادی کرسکتا ہے ، نہ کسی کے نکاح میں وکیل بن سکتا ہے ۔اپنی کسی بیٹی بہن وغیرہ کاسرپرست بن کر اس کا نکاح بھی نہیں کرسکتا

احرام کی حالت میں کسی سے نکاح کی بات چیت بھی نہیں چلانی چاہیے ۔ اگر کوئی غلطی کرے اور پیغام بھیج دےتو اسے جواب نہ دیا جائے ۔

احرام حج کا ہو یاعمرہ کا ایک ہی حکم ہے

احرام والی عورت کا نکاح بھی نہ کیا جائے ، اور نہ اس کے لیے پیغام بھیجا جائے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت