1970 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ»
ام المومنین حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر میں تشریف لے جاتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے۔
1۔ بیویوں سےمعاملات میں زیادہ سے زیادہ ممکن حد تک مساوات کاسلوک کرنا اور انصاف قائم رکھنا چاہیے
جب ایک چیز کےمستحق ایک سے زیادہ افراد ہوں اور وہ چیز
قابل تقسیم نہ ہو تو رعہ اندازی سےفیصلہ کیا جاتا سکتا ہے ۔
قرعہ اندازی شرعا جائز ہے بشرطیکہ معاملہ قمار (جوئے ) سے تعلق نہ رکھتا ہو۔