1979 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «سَابَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ»
حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے مجھ سے دوڑ لگائی تو میں آپ سے آگے نکل گئی۔
1۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت کا شرف حاصل ہوا ،وہ کم سن تھیں ۔ رسول اللہ ﷺ ان کی کم سنی کا خیال کرتے ہوئے ان کو دل لگی کے مواقع فراہم کرتے تھے
بچوں اور بچیوں کو جائز تفریح کےمناسب مواقع فراہم کرنے چاہییں ۔
گھرمیں سنجیدگی طاری کیے رکھنا درست نہیں ۔ بیوی بچوں سے مناسب مزاح اور ان کا دل خوش کرنے کی کوشش کسی کی بزرگی کےمنافی نہیں ۔
یہ سفر کا واقعہ ہے ۔ رسول اللہ ﷺنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:'' تم لوگ آگے نکل جاؤ۔'' بعد میں ام المؤمنین رضی اللہ عنہن کے ساتھ دوڑ لگائی ۔ اس وقت وہ آگے نکل گئیں ۔ کئی سال بعد پھر ایک سفر میں ایسا ہی ہوا تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہن پیچھے رہ گئیں۔نبی ﷺنے فرمایا: ''یہ پہلی دوڑ کا بدلہ اتر گیا '' دیکھیے ( سنن ابی داؤد ، الجہاد ، باب فی السبق علی الرجل ، حدیث 2578)