فهرس الكتاب

الصفحة 1986 من 4341

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

باب: عورتوں کو مارنا

1986 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، والْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ الطَّحَّانُ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: ضِفْتُ عُمَرَ لَيْلَةً، فَلَمَّا كَانَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، قَامَ إِلَى امْرَأَتِهِ يَضْرِبُهَا، فَحَجَزْتُ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ لِي: يَا أَشْعَثُ، احْفَظْ عَنِّي شَيْئًا سَمِعْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «لَا يُسْأَلُ الرَّجُلُ فِيمَ يَضْرِبُ امْرَأَتَهُ، وَلَا تَنَمْ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ» ، وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ.

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.

حضرت اشعث بن قیس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ایک رات حضرت عمر ؓ کے ہاں مہمان رہا۔ آدھی رات ہوئی تو وہ اٹھ کر اپنی عورت کو مارنے لگے، میں نے بیچ بچاؤ کرا دیا۔ جب وہ اپنے بستر پر گئے تو مجھ سے فرمایا: اے اشعث! میری ایک بات یاد رکھنا۔ میں نے وہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔ (آپ نے فرمایا: مرد سے نہیں پوچھنا چاہیے کہ اس نے اپنی عورت کو کیوں مارا۔ اور وتر پڑھے بغیر مت سویا کر۔ اور تیسری بات مجھے یاد نہیں رہی۔

حضرت ابوعوانہ ؓ نے ایک دوسری سند سے بھی مذکورہ بالا روایت کی مانند بیان کیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت