فهرس الكتاب

الصفحة 1999 من 4341

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

باب: غیرت کا بیان

1999 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحًا ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي قَدْ أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ بَضْعَةٌ مِنِّي، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَفْتِنُوهَا، وَإِنَّهَا وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا» ، قَالَ: فَنَزَلَ عَلِيٌّ عَنِ الْخِطْبَةِ

حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے ابو جہل کی بیٹی کا رشتہ طلب کیا جب کہ نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ ان کے نکاح میں تھیں۔ جب حضرت فاطمہ ؓا نے یہ بات سنی تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: لوگ باتیں کرتے ہیں کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کے متعلق کسی بات پر غصہ نہیں آتا۔ یہ (دیکھیے) علی (ؓ) ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں۔

حضرت مسور ؓ بیان کرتے ہیں: نبی ﷺ کھڑے ہوئے، میں نے سنا کہ آپ نے تشہد پڑھا (خطبہ کے افتتاحی کلمات ارشاد فرمائے) پھر فرمایا: ا بعد، میں نے ابوالعاص بن ربیع ؓ کو رشتہ دیا۔ انہوں نے مجھ سے (جو بھی) بات کی، سچی بات کی۔ اور بے شک محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ (ؓا) میرا ٹکڑا (اور میری لخت جگر) ہے۔ مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ تم اسے آزمائش میں ڈالو۔ قسم ہے اللہ کی! اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی ایک آدمی کے پاس (اس کے نکاح میں) جمع نہیں ہوں گی۔

راوی نے بیان کیا: چنانچہ حضرت علی ؓ اس رشتے سے دست بردار ہو گئے۔

1۔حضرت ابوالعاص بن ربیع رسول اللہ کی بیٹی حضرت زینت رضی اللہ عنہا کے شوہر تھے جو ان کے خالہ زاد تھے۔ ان کی والدہ کا نام ہالہ بنت خویلد ہے۔ (سیراعلام النبلاء:1؍441) 2۔ ہراہم موقع پر عوام سے خطاب کرتے وقت کلام کو اللہ کی حمد و ثنا اوردرود شریف سے شروع کرنا مسنون ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت