فهرس الكتاب

الصفحة 2012 من 4341

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

باب: دودھ پلانے والی عورت سے مباشرت کرنا

2012 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ الْمُهَاجِرَ بْنَ أَبِي مُسْلِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ، وَكَانَتْ مَوْلَاتَهُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الْغَيْلَ لَيُدْرِكُ الْفَارِسَ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ حَتَّى يَصْرَعَهُ»

حضرت اسماء بنت یزید بن سکن ؓا سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی اولاد کو خفیہ طور پر قتل نہ کرو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! غیلہ تو گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے ہوئے سوار پر بھی اثر انداز ہو کر اسے گرا دیتا ہے۔

گھوڑے سے گرانے کا مطلب یہ ہے کہ غیلہ کی وجہ سے حاصل ہونے والی کمزوری کا اثر زندگی بھر قائم رہتا ہے حتی کہ جب ایسا بچہ جوان ہوکر شہسوار بن جاتا ہے ، تب بھی وہ اس سوار کا مقابلہ نہیں کرسکتا جسے بچپن میں یہ صورت حال پیش نہیں آئی ، تاہم یہ حدیث ضعیف ہے ، لہذا اس قدر احتیاط ضروری نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت