فهرس الكتاب

الصفحة 2028 من 4341

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

باب: جس حاملہ عورت کا خاوند فوت ہو جائے بچے کی پیدائش ہونے پر اسے نکاح کرنا جائز ہو جاتا ہے

2028 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، وَعَمْرِو بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُمَا كَتَبَا إِلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ يَسْأَلَانِهَا عَنْ أَمْرِهَا، فَكَتَبَتْ إِلَيْهِمَا: إِنَّهَا وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ، فَتَهَيَّأَتْ تَطْلُبُ الْخَيْرَ، فَمَرَّ بِهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، فَقَالَ: قَدْ أَسْرَعْتِ، اعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: «وَفِيمَ ذَاكَ؟» فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «إِنْ وَجَدْتِ زَوْجًا صَالِحًا فَتَزَوَّجِي»

حضرت مسروق اور حضرت عمرو بن عتبہ رحمۃ اللہ علیھم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے حضرت سبیعہ بنت حارث ؓ کو خظ لکھ کر ان کا واقعہ دریافت کیا تو انہوں نے (جواب میں) ان حضرات کو لکھا کہ ان کے ہاں ، ان کے خاوند کی وفات سے پچیس دن بعد ولادت ہو گئی، چنانچہ انہوں نے اچھے کام (نکاح) کے ارادے سے تیاری کی۔ حضرت ابوسنابل بن بعکک ؓ ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: تم نے جلدی کی، بعد ولی معدت، یعنی چار ماہ دس دن مکمل ہونے تک عدت گزارو۔ (وہ فرماتی ہیں: ) میں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: اللہ کے رسول! میرے لیے مغفرت کی دعا کیجئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: وہ کیوں؟ میں نے نبی ﷺ کو واقعہ سے آگاہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہیں نیک خاوند مل جائے تو نکاح کر لو۔

1۔ نکاح کی تیاری کا مطلب یہ ہے کہ عدت کا سادہ لباس اتارکر اچھا لباس پہن لیا اور زیب و زینت کی۔2۔ دعائے مغفرت کی درخواست کا مطلب یہ تھا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی ہے کہ وقت سے پہلے عدت کی پابندیاں توڑ بیٹھی ہوں۔ نبی ﷺ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ عدت ختم ہوچکی ہے، لہذا تم نے کوئی غلطی نہیں کی، پریشان نہ ہوں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت