فهرس الكتاب
2030 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «وَاللَّهِ، لَمَنْ شَاءَ لَاعَنَّاهُ، لَأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قسم ہے اللہ کی! جو شخص چاہے ہم اس سے مباہلہ کر سکتے ہیں کہ عورتوں کے مسائل کی چھوٹی سورت (سورۃ الطلاق) چار ماہ دس دن کا حکم نازل ہونے کے بعد نازل ہوئی تھی۔
1۔ سورۂ طلاق میں یہ حکم ہے کہ حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے ۔ یہ حکم بعد میں نازل ہوا۔ اور سورۂ بقرہ کی وہ آیت اس سے پہلے نازل ہوئی تھی جس میں یہ حکم ہے کہ بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے (البقرۃ234:2) لہذا حاملہ عورت کا خاوند اگر فوت ہوجائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن نہیں بلکہ وضع حمل ہے، خواہ حمل کی مدت کم ہو یا زیادہ۔ اور یہی مسئلہ صحیح ہے۔2۔ جو عورت حمل سے نہ ہو اور اس کا خاوند فوت ہو جائے، اس کےلیے یہ حکم باقی ہے کہ وہ چار ماہ دس دن عدت گزارے، خواہ اس کی رخصتی ہوئی ہو یا صرف نکاح ہوا ہو اور رخصتی نہ ہوئی ہو۔