فهرس الكتاب

الصفحة 2065 من 4341

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

باب: اگر ظہار کرنے والا کفارہ ادا کرنے سے پہلے مباشرت کر لے( تو کیا حکم ہے ؟)

2065 حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ، فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ «مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ بَيَاضَ حِجْلَيْهَا فِي الْقَمَرِ، فَلَمْ أَمْلِكْ نَفْسِي أَنْ وَقَعْتُ عَلَيْهَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَلَّا يَقْرَبَهَا حَتَّى يُكَفِّرَ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ظہار کیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس سے ہم بستر ہو گیا، پھر اس نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول! چاندنی میں میری نظر اس کی پازیبوں پر پڑی، پھر مجھے اپنے آپ پر قابو نہ رہا، اور میں اس سے مباشرت کر بیٹھا رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور اسے حکم دیا کہ کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس کے قریب نہ جائے۔

1۔ ظہار کرنے والے کو کفارہ ادا کرنے تک بیوی سے الگ رہنا چاہیے۔2۔ اگروہ غلطی سے کفارہ ادا کرنے سے پہلے مقاربت کرلے تو اسے دوکفارے ادا نہیں کرنے پڑیں گے۔ایک ہی کفارہ ادا کرے۔ اور اللہ سے معافی مانگے اور استغفار کرے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت