فهرس الكتاب

الصفحة 2073 من 4341

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

باب:( بیوی کو خود پر )حرام کر لینے کا بیان

2073 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ» ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: 21]

حضرت سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حلال چیز کو حرام کر لینے کے بارے میں فرمایا: یہ قسم ہے۔

اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے: (لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَ‌سُولِ ٱللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ) تمہارے لیے اللہ کے رسول میں اچھا نمونہ ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کےفرمان کا مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں کفارہ ادا کرنا چاہیے۔ صحیح بخاری میں یہی حدیث ان الفاظ میں مروی ہے: سعید بن جبیر﷫ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حرام کرنے کے بارے میں فرمایا: ''کفارہ ادا کرے۔'' پھرابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: {لَقَد كانَ لَكُم في رَ‌سولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ} (صحيح البخارى، التفسير، سورة التحريم، باب: { يـأَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّ‌مُ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ} ، حديث:4911)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت