باب: رسول اللہ ﷺ کس طرح قسم کھاتے تھے
2091 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَحْلِفُ بِهَا، أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ»
حضرت رفاعہ بن عرابہ جہنی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اللہ کے سامنے گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ جو قسم کھاتے تھے وہ یوں ہوتی تھی: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔
1۔ضرورت وقت مخاطب کو اپنی بات کا یقین دلانے کے لیے 'یا تا کید کے لیے قسم کھانا جائز ہے ۔2: قسم کے لیے جس طرح اللہ کا نام لیا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالی کی صفات کا بھی ذکر کیا جاتا ہے ۔ قسم کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ اس بات پر گواہ ہے کہ فلاں معاملہ یوں ہے ۔اب اگر یہ بیان جھوٹ ہے تواس موقع پر اللہ کا نام لینا بہت بڑی گستاخی ہے کیوں کہ اللہ تعالی جھوٹ پرگواہ نہیں بن سکتا۔