فهرس الكتاب

الصفحة 2102 من 4341

کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل

باب: جسے اللہ کی قسم کھا کر کچھ بتایا جائے ، اسے تسلیم کر لینا چاہیے

2102 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلًا يَسْرِقُ، فَقَالَ: أَسَرَقْتَ؟ قَالَ: لَا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَقَالَ عِيسَى: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ بَصَرِي

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: کیا تو نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! (میں نہیں چوری) نہیں )کی۔) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں، اور اپنی آنکھ کو جھوٹی کہتا ہوں۔

1۔ یہ مومن کی قسم پر اعتبار کرنے کی مثال ہے کہ اس کی قسم پر اپنی آنکھوں دیکھی چیز کو رد کر دیا۔

2۔ ممکن ہے وہ چیز اسی شخص کی ہو جو اسے لے رہا تھا لیکن کسی خاص وجہ سے اس نے چھپ کر اٹھائی ہو ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت