فهرس الكتاب

الصفحة 2109 من 4341

کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل

باب: جس نے کوئی قسم کھائی پھر اسے دوسری صورت بہتر معلوم ہوئی

2109 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي ابْنُ عَمِّي فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ، وَلَا أَصِلَهُ، قَالَ: «كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ»

حضرت عوف بن مالک ضشمی ؓ نے اپنے والد (حضرت مالک بن نضلہ جشمی ؓ) سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس میرا چچا زاد بھائی آتا ہے (کسی بات پر ناراض ہو کر) میں قسم کھا لیتا ہوں کہ اسے کچھ نہیں دوں گا، نہ اس سے صلہ رحمی کروں گا۔ آپ نے فرمایا: اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت