قسم میں توریہ کرنا
2120 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْيَمِينُ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ»
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماای: قسم، قسم دلانے والے کی نیت پر ہوتی ہے۔
"1۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قسم میں توریہ درست نہیں بلکہ توریہ کے ساتھ قسم کھانا بھی جھوٹ ہی سمجھا جائے گا۔"
2۔ گزشتہ حدیث سے بظاہر اس کے برعکس معلوم ہوتا ہے لیکن وہ حدیث اس صورت میں ہے جب کسی مسلمان کی جان ، مال یا آبرو خطرے میں ہو ۔ اور یہ حدیث روز مرہ معاملات کے بارے میں ہے ۔""