فهرس الكتاب

الصفحة 2133 من 4341

کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل

باب: اگر کوئی نذر پوری کیے بغیر فوت ہو جائے تو؟

2133 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرُ صِيَامٍ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَصُمْ عَنْهَا الْوَلِيُّ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک خاتون رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: اللہ کے رسول! میری والدہ فوت ہو گئی ہیں اور ان کے ذمے نذر کے روزے تھے۔ وہ نذر پوری کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کی طرف سے ولی روزے رکھے۔

مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندا ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس سے بخاری (1952) و مسلم (1147) کی روایت کفایت کرتی ہے ۔ غالبًا اسی وجہ سے دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

تفصیل کے لیے دیکھیے ( صحیح سنن ابی داؤد( مفصل ) ، رقم: 2077، و سنن ابن ماجہ بتحقیق الدکتور بشار عواد ، حدیث: 2133) لہذا مذکورہ روایت سندا ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی وجہ سے قابل عمل اور قابل حجت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت