فهرس الكتاب

الصفحة 2135 من 4341

کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل

باب: پیدل حج کی نذر ماننا

2135 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْخًا يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَقَالَ: «مَا شَأْنُ هَذَا؟» قَالَ ابْنَاهُ: نَذْرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «ارْكَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ، فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكَ وَعَنْ نَذْرِكَ»

حضرت ابوہریرہ رؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک بوڑھے کو اپنے دو بیٹوں کے درمیان (ان کا سہارا لے کر) چلتے دیکھا تو فرمایا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ اس کے بیٹوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس نے نذر مان رکھ ہے۔ آپ نے فرمایا: بڑے میاں! سوار ہو جاؤ! اللہ تعالیٰ تم سے اور تمہاری نذر سے مستغنی ہے۔

1۔ ایسی نذر ماننا درست نہیں جسے پورا کرنے میں انتہائی مشقت ہو ۔

2۔ جب انسان محسوس کرے کہ نذر پوری کرنا بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے تو نذر توڑ کر کفارہ دے دے ۔

3۔ اپنے آپ پر اتنی مشقت ڈالنا مناسب نہیں جس کو نبھانا دشوار ہو ۔ اللہ کی رضا ان اعمال کی خلوص کے ساتھ ادائیگی کے ساتھ بھی حاصل ہو سکتی ہے جسے آدمی آسانی سے ادا کرسکے ، تاہم نفلی عبادات کا مناسب حد تک اہتمام کرنا ضروری ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت