2150 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، وَالْحَجَّاجُ، وَالْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كَانَ زَكَرِيَّا نَجَّارًا»
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حضرت زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے۔
1۔ لکڑی کا کام ایک اچا پیشہ ہے جس کے ذریعے سے مومن اپنے ہاتھ کی محنت سے حلال روزی کما سکتا ہے۔ حضرت نوح نے بھی اللہ کے حکم سے لکڑی کی کشتی بنائی تھی۔ (سورۂ ہود 37،38:11) 2۔ کسی بھی جائز پیشے کو حقیر نہیں جاننا چاہیے۔ حقارت اور ذلت کا کام یہ ہے کہ انسان روزی کمانے کے لیے ناجائز طریقے اختیار کرے، یا ایسا اپنائے جو شریعت کی رو سے ممنوع ہے۔