فهرس الكتاب

الصفحة 217 من 4341

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت

باب: قرآن کا علم حاصل کرنے اور اس کی تعلیم دینے والے کی فضیلت

217 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ، واقْرأوهُ وَارْقُدُوا، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ وَمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَامَ بِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ، وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ، أُوكِيَ عَلَى مِسْكٍ»

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ نے فرمایا:'' قرآن سیکھو، پھر اسے پڑھو اور سور ہو۔ (رات کو نماز میں تلاوت کرو، لیکن ساری رات نماز نہ پڑھو بلکہ کچھ وقت آرام بھی کرو) کیوں کہ قرآن، اسے سیکھنے والے اور اس کے ساتھ قیام کرنے والے کی مثال ایسے ہے جیسے چمڑے کی ایک تھیلی کستوری سے بھری ہوئی ہو اور اس کی خوشبو ہر جگہ مہکتی ہو۔ اور جس نے قرآن سیکھا، پھر سو رہا حالانکہ قرآن اس کے سینے میں ہے اس کی مثال اس طرح ہے جیسے چمڑے کی تھیلی میں کستوری ہو اور اس کا منہ ( رسی وغیرہ سے کس کر) باندھ دیا گیا ہو۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت