2174 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَنَاجَشُوا»
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: بولی نہ بڑھاؤ۔
1۔ بولی بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص مال خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتا، وہ بولی میں حصہ لے اور جتنی قیمت پہلے پیش کی جا چکی ہے، اس سے زیادہ پیش کرے تاکہ ضرورت مند خریدار ا سے زیادہ قیمت دینے پر امادہ ہو جائے۔ 2۔ یہ عمل اس لیے منع ہے کہ اس میں دھوکا ہے اور خریدار کا نقصان ہے۔ 3۔ بولی دے کر چیز بیچنا جائز ہے۔