فهرس الكتاب

الصفحة 2189 من 4341

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

باب: جو چیز پاس نہ ہو اسے بیچنا منع ہے اور جس کے نقصان کی ذمہ داری بیچنے والے پر نہیں اس کا نفع لینا درست نہیں

2189 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ: «لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَكَّةَ، نَهَاهُ عَنْ شِفِّ مَا لَمْ يُضْمَنْ»

حضرت عتاب بن اسید ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں مکہ (گورنر بنا کر) بھیجا تو انہیں اس چیز کا نفع لینے سے منع فرمایا جس کی ذمے داری قبول نہ کی گئی ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت