2209 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكُمْ وَالْحَلِفَ فِي الْبَيْعِ، فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ، ثُمَّ يَمْحَقُ»
حضرت ابوقتادہ حارث بن ربعی انصاری ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فروخت کرتے وقت قسم کھانے سے اجتناب کرو، یہ سودے میں رغبت پیدا کرتی ہے (جس سے پہلے پہل سودا زیادہ بکتا ہے) ، پھر برکت ختم کر دیتی ہے۔
1۔ سچی قسمیں بھی کم سے کم ہی کھانا مناسب ہے۔ سامان بیچنے کے لیے بلا ضرورت قسمیں کھاتے چلے جانا اچھی عادت نہیں۔ 2۔ حدیث کے الفاظ: [فَإِنَّهُ يُنْفِقُ ثُمَّ يَمْحَقُ] کا یہ مطلب بھی ہے کہ پہلے پہلے سودا زیادہ بکتا ہے کیونکہ لوگ اس کی قسموں سے متاثر ہو جاتے ہیں، بعد میں جب حقیقت کھل جاتی ہے کہ قسمیں کھانا تو اس کی عادت ہے تو پھر اس سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ اس کا کاروبار پہلے بھی کم ہو جاتا ہے اور لوگ اس سے سودا لینے سے اجتناب کرنے لگتے ہیں۔