2217 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَزْهُوَ وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے پھلوں کی فروخت سے منع فرمایا حتی کہ ان کا رنگ بدل جائے، اور انگوروں کی فروخت سے منع فرمایا حتی کہ وہ سیاہ ہو جائیں، اور حلے (گندم اور جو وغیرہ) کی فروخت سے منع فرمایا حتی کہ وہ سخت ہو جائیں۔
1۔مختلف اجناس کا قابل فروخت ہونا مختلف انداز سے ظاہر ہوتا ہے۔ 2۔ باغ کے پھل جب کچے ہوتے ہیں تو سبز ہوتے ہیں، بعد میں آہستہ آہستہ ان کا اصلی رنگ ظاہر ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس وقت ان کے ضائع ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ اس وقت ان پھلوں کو بیچنا درست ہے۔ رنگ بدلنے سے اصل مقصد یہی ہے کہ اتنے بڑے ہوجائیں کہ موسمی خطرات سے نکل آئیں۔ 3۔ گندم وغیرہ کی بالیوں میں دانے نرم و نازک ہوتے ہیں، بعد میں آہستہ آہستہ سخت ہو جاتے ہیں۔ اس وقت ان کے ضائع ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ اور یہ بھی اندازہ ہوجاتا ہےکہ کھیت میں کتنی پیداور ہوگی۔ اس وقت کھڑی فصل بیچنا جائز ہے، اس سے پہلے نہیں۔ 4۔ پھل یا فصل کی صلاحیت ظاہر ہونے کے بعد بھی فروخت کرنے کے بعد اگر کوئی آفت آجائے، مثلًا: آندھی طوفان وغیرہ جس سے فصل تباہ ہوجائے تو فروخت کرنے والے کو چاہیے کہ قیمت وصول نہ کرے، اگر وصول کرلی ہے تو واپس کردے۔ (دیکھیے، حدیث:2219) 5۔ مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندًا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے، لہٰذا مذکورہ روایت سندًا ضعیف ہونے کے باوجود معنًا صحیح، قابل حجت اور قابل عمل ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (سنن ابن ماجہ بتحقیق الدکتور بشار عواد، رقم 2217، والمرواء للألبانی، رقم: 1364، 1366، والموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد 12/37)