فهرس الكتاب

الصفحة 2230 من 4341

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

باب:(بغیر ماپے تولے )اندازے سے بیچنا

2230 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ التَّمْرَ فِي السُّوقِ فَأَقُولُ كِلْتُ فِي وَسْقِي هَذَا كَذَا فَأَدْفَعُ أَوْسَاقَ التَّمْرِ بِكَيْلِهِ وَآخُذُ شِفِّي فَدَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا سَمَّيْتَ الْكَيْلَ فَكِلْهُ

حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں بازار میں کھجورین بیچا کرتا تھا۔ میں (گاہک کو) کہتا: میں نے اپنے اس پیمانے سے ماپا ہے کہ یہ اس قدر (اتنے وسق) ہے۔ میں اس ماپ کی بنا پر کھجورین اس کے حوالے کرتا اور اپنا منافع لے لیتا، پھر مجھے اس بارے میں شک پیدا ہوا تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: جب تو نے پیمانے کا نام لے تو اسے ماپ کر دے۔

(1) ماپ کر خریدی ہوئی چیز بیچتے وقت بھی ماپ کر ہی دینی چاہیے تاکہ شک شبہ نہ رہے اور گاہک مطمئن ہو جائے ۔

(2) جس مسئلے میں شک ہو عالم سے دریافت کر لینا چاہیے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت