224 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ وَاللُّؤْلُؤَ وَالذَّهَبَ»
سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' علم طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اور علم کو نااہلوں کے سامنے رکھنے والا ایسے ہے جیسے خنزیروں کو جواہرات، موتیوں اور سونے کے ہار پہنانے والا۔''
(1) یہر مسلمان سے مراد مرد اور عورتیں سبھی ہیں کیونکہ شریعت کے احکام پر عمل کرنا مردوں اور عورتوں سبھی پر فرض ہے، لہذا انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کیا جائز ہے کیا ناجائز۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عورتوں سب کو دین سکھایا اور اس کے مسائل بتائے۔ (2) یہ روایت سندا ضعیف ہے لیکن اس کا پہلا حصہ (طلب علم کی فرضیت) معنا صحیح ہے، یعنی احکام شریعت کا ضروری علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔