فهرس الكتاب

الصفحة 2261 من 4341

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

باب: سونے کا چاندی سے تبادلہ

2261 حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَافِعٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا فَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِوَرِقٍ فَلْيَصْطَرِفْهَا بِذَهَبٍ وَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِذَهَبٍ فَلْيَصْطَرِفْهَا بِالْوَرِقِ وَالصَّرْفُ هَاءَ وَهَاءَ

حضرت عمر بن محمد بن علی بن ابی طالب اپنے والد (حضرت محمد بن حنفیہ ؓ) سے اور وہ ان کے دادا (اور اپنے والد حضرت علی ؓ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دینار کے بدلے میں دینار ہے اور درہم کے بدلے میں درہم۔ ان میں کوئی کمی بیشی (جائز) نہیں۔ جس کو چاندی کی ضرورت ہو، وہ سونے کے بدلے میں اسے حاصل کر لے، اور جسے سونے کی ضرورت ہو، وہ چاندی کے عوض تبادلہ کر کے لے لے۔ اور صَرف (درہم و دینار کا باہمی تبادلہ) ہاتھوں ہاتھ ہوتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت