فهرس الكتاب

الصفحة 2271 من 4341

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

باب: حیوان کی حیوان سے ادھار بیع کرنا

2271 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَبُو خَالِدٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا بَأْسَ بِالْحَيَوَانِ وَاحِدًا بِاثْنَيْنِ يَدًا بِيَدٍ وَكَرِهَهُ نَسِيئَةً

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک جانور کا دو جانوروں سے دست بدست تبادلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور نبی ﷺ نے (اس قسم کا تبادلہ) ادھار کے ساتھ ناپسند فرمایا۔

(1) جانور کا جانور سے تبادلہ جائز ہے ۔

(2) جانور کا جانور سے تبادلہ دونوں طرف سے فوری ادائیگی کی صورت میں ہونا چاہیے۔

(3) جانور کا جانور سے تبادلہ کرنے میں برابر ضروری نہیں بلکہ اعلیٰ نسل کی ایک گائے کےعوض ادنیٰ قسم کی دو گائیں دی جا سکتی ہیں ' یا اچھی نسل کی ایک بکری دے کر ادنیٰ قسم کی دو بکریاں لی جا سکتی ہیں ۔

(4) مذکورہ روایت کی بابت ہمارے فاضل محقق لکھتے ہیں کہ یہ روایت سندًا ضعیف ہے ' البتہ سابقہ روایت اس سےکفایت کرتی ہے ' علاوہ ازیں دیگر محققین نے بھی اسے صحیح اور حسن قرار دیا ہے لہٰذا مذکورہ روایت سندًا ضعیف ہونے کے باوجود قابل حجت اور قابل عمل ہے ۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثة مسند الامام احمد: 22/234،235، والصحيحة ،رقم:2416)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت