فهرس الكتاب

الصفحة 228 من 4341

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت

باب: علماء کی فضیلت اور حصول علم کی ترغیب

228 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي عَاتِكَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ، وَقَبْضُهُ أَنْ يُرْفَعَ» وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ، هَكَذَا. ثُمَّ قَالَ: «الْعَالِمُ وَالْمُتَعَلِّمُ شَرِيكَانِ فِي الْأَجْرِ، وَلَا خَيْرَ فِي سَائِرِ النَّاسِ»

سیدنا ابو امامہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' اس علم ( علم دین) کو اس کے قبض ہونے سے پہلے پہلے حاصل کر لو۔ قبض ( ہونے کا مطلب) یہ ہے کہ اسے اٹھالیا جائے گا۔'' اس کے بعد آپ ﷺ نے درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی ملا کر ( اشارہ کیا اور) فرمایا:'' عالم اور طالب علم ثواب میں شریک ہیں اور دوسرے لوگوں میں کوئی خیر نہیں۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت