2299 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي عَنْ عَمِّ أَبِيهَا رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ قَالَ كُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلَنَا أَوْ قَالَ نَخْلَ الْأَنْصَارِ فَأُتِيَ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا غُلَامُ وَقَالَ ابْنُ كَاسِبٍ فَقَالَ يَا بُنَيَّ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ قَالَ قُلْتُ آكُلُ قَالَ فَلَا تَرْم النَّخْلَ وَكُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسَافِلِهَا قَالَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ
حضرت رافع بن عمرو غفاری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب میں لڑکا تھا تو میں (ایک بار) اپنے کھجوروں کے درختوں پر، یا فرمایا: انصار کے درختوں پر پتھر مار رہا تھا۔ مجھے (پکڑ کر) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: لڑکے! یا فرمایا:: بیتا! تو درختوں پر پتھر کیوں مرتا ہے؟ میں نے کہا: کھانے کے لیے۔ آپ نے فرمایا: درختوں پر پتھر نہ پھینکا کر، جو کھجوریں نیچے گری ہوئی ہوں، وہ کھا لیا کر۔ پھر میرے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا: اے اللہ اس کا پیٹ بھر دے۔