فهرس الكتاب

الصفحة 2303 من 4341

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

باب: مالک کی اجازت کے بغیر جانور وں کا دودھ لے لینا منع ہے

2303 حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ سَلِيطِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطُّهَوِيِّ عَنْ ذُهَيْلِ بْنِ عَوْفِ بْنِ شَمَّاخٍ الطُّهَوِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِذْ رَأَيْنَا إِبِلًا مَصْرُورَةً بِعِضَاهِ الشَّجَرِ فَثُبْنَا إِلَيْهَا فَنَادَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْإِبِلَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ هُوَ قُوتُهُمْ وَيُمْنُهُمْ بَعْدَ اللَّهِ أَيَسُرُّكُمْ لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَى مَزَاوِدِكُمْ فَوَجَدْتُمْ مَا فِيهَا قَدْ ذُهِبَ بِهِ أَتُرَوْنَ ذَلِكَ عَدْلًا قَالُوا لَا قَالَ فَإِنَّ هَذَا كَذَلِكَ قُلْنَا أَفَرَأَيْتَ إِنْ احْتَجْنَا إِلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ فَقَالَ كُلْ وَلَا تَحْمِلْ وَاشْرَبْ وَلَا تَحْمِلْ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک سفر میں ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ (راستے میں ایک جگہ) ہمیں کیکر کے درکٹوں تکلے کچھ تھن بندھی اونٹنیاں نظر آئیں۔ ہم ان کے پاس جمع ہو گئے۔ ( اس پر) ہمیں رسول اللہ ﷺ نے آواز دی تو ہم آپ کے پاس واپس آ گئے۔ آپ نے فرمایا: یہ اونٹنیاں ایک مسلمان گھرانے کی ہیں۔ اللہ کے بعد یہی ان کے لیے خوراک کا ذریعہ اور برکت کا باعث ہیں۔ کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تم اپنے توشہ دانوں کے پاس پہنچو تو دیکھو کہ ان میں جو کچھ تھا، کوئی لے گیا ہے؟ کیا تم اسے انصاف سمجھتے ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنھم نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ہم نے عرض کیا: اگر ہمیں کھانے پینے کی ضرورت ہو تو (ہم کیا کریں؟) آپ نے فرمایا: کھا لو اور ساتھ نہ لے جاؤ، پی لو اور ساتھ نہ لے جاؤ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت