فهرس الكتاب

الصفحة 2318 من 4341

کتاب: فیصلہ کرنے سے متعلق احکام و مسائل

باب: جج کے فیصلے کر دینے سے حرام چیز حلال اور حلال چیز حرام نہیں ہوتی

2318 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَطَعْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ قِطْعَةً، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تو محض ایک انسان ہوں۔ شاید تم میں سے ایک شخص اپنی دلیل کو دوسرے کی نسبت بہتر طور پر بیان کر سکتا ہو، لہذا جس کو اس کے بھائی کے حق میں سے ایک ٹکڑا کاٹ کر دے دوں تو میں اسے (جہنم کی) آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔

1۔ رسول اللہ ﷺ بھی شریعت کے احکام کے مطابق عمل کرنے اور فیصلہ کرنے کے مکلف تھے ۔ 2۔ کسی کے حق سے ٹکڑا کاٹ کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ جتنا حق دار کا حق تھا اسے پورا نہیں دیا گیا بلکہ کچھ حصہ غلطی سے دوسرے کو دے دیا گیا ۔ واللہ اعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت