فهرس الكتاب

الصفحة 2328 من 4341

کتاب: فیصلہ کرنے سے متعلق احکام و مسائل

باب: اہل کتاب سے کس طرح قسم لی جائے ؟

2328 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ مُجَالِدٍ أَنْبَأَنَا عَامِرٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَهُودِيَّيْنِ أَنْشَدْتُكُمَا بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے دو یہودیوں سے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل فرمائی۔

1۔ مذکورہ روایت کو بعض محققین نے صحیح قرار دیا ہے ۔ یہود ونصاریٰ کے مذہب میں بھی جھوٹی قسم کھانا حرام ہے اس لیے ضرورت کےوقت ان سے قسم لی جا سکتی ہے ۔

2۔ غیر مسلموں سے بھی اللہ ہی کی قسم لی جائے ۔ 3۔ یہود و تورات کا ادب کرتے اور اس پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں اس لیے ان کے عقیدے کے مطابق قسم لی جا سکتی ہے لیکن ایسے الفاظ سے جو اسلامی عقیدے کےبھی خلاف نہ ہوں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت