فهرس الكتاب

الصفحة 2350 من 4341

کتاب: فیصلہ کرنے سے متعلق احکام و مسائل

باب: قیافہ شنا سی کا بیان

2350 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا امْرَأَةً كَاهِنَةً فَقَالُوا لَهَا أَخْبِرِينَا أَشْبَهَنَا أَثَرًا بِصَاحِبِ الْمَقَامِ فَقَالَتْ إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السِّهْلَةِ ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ قَالَ فَجَرُّوا كِسَاءً ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هَذَا أَقْرَبُكُمْ إِلَيْهِ شَبَهًا ثُمَّ مَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قریش کا ایک کاہن عورت کے پاس گئے اور اسے کہا: ہمیں بتا کہ مقام ابراہیم پر جس شخص کا نشان ہے، ہم میں سے کس کا نشان قدددم اس سے زیادہ ملللتا ہے؟ اس نے کہا: اگر تم ہموار ریتلی زمین پر ایک شادر کھینچ کر (اسے بالکل ہموار کر دو، پھر) اس (ریت) پر چلو تو میں تمہارے سوال کا جواب دے دوں گی۔ انہوں نے چادر کھینچی، پھر لوگ اس (ہموار ریت) پر چلے۔ اس عورت نے رسول اللہ ﷺ کے قدم مبارک کے نشان کو دیکھ کر کہا: یہ صاحب اس (ابراہیم علیہ السلام) سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ اس کے بعد تقریبا بیس سال یا (کم و بیش) جتنا اللہ نے چاہا، اتنا عرصہ گزرا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو (نبوت عطا فر کر) مبعوث فر دیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت