فهرس الكتاب

الصفحة 2367 من 4341

کتاب: گواہی سے متعلق احکام ومسائل

باب: کس کی گواہی قبول نہیں ؟

2367 حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلَى صَاحِبِ قَرْيَةٍ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فر رہے تھے: بستی والے خے خلاف خانہ بدوش کی گواہی قبول نہیں۔

1۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خانہ بدوش دین واخلاق اورکردار کےلحاظ سےعموما کم تر ہوتے ہیں کیونکہ انھیں علماء کےپاس بیٹھنے اور دین سیکھنے کاموقع نہیں ملتا'اس لے ان سے زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ گواہی صحیح نہ دیں گے۔

2۔ گواہ کاقابل اعتماد ہونا ضروری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت