فهرس الكتاب

الصفحة 2411 من 4341

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل

باب: جو شخص قرض لے اور اس کی نیت قرض واپس کرنے کی نہ ہو!

2411 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص لوگوں کا مال اسے ضائع کرنے کے ارادے سے لیتا ہے، اللہ اسے تباہ کر دے گا۔

1۔ ضائع کرنے سے مرادیہ ہے کہ وہ اسے واپس نہیں کرنا چاہتا'مالک کے لحاظ سے یہ مال تباہ ہو گیا کیونکہ اسے واپس نہیں ملے گا ۔

2۔ حرام طریقے سے حاصل کیے ہوئے مال میں برکت نہیں ہوتی ۔

3۔ ایسے جرم کی سزا دنیا میں بھی مل سکتی ہے کہ اس شخص پرایسے حالات آجائیں کہ وہ مفلس ہوجائے اورآخرت میں بھی سزامل سکتی ہےکہ اس کے اعمال ضائع ہوجائیں یاقرض خواہ کودےدیے جائیں اوروہ خود جہنم میں چلا جائے۔ یہ بہت بڑی تباہی ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت